سلطان راہی ایکشن اور ایکسپریشن کے بادشاہ تھے، مصطفیٰ قریشی


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جنوری2020ء) اداکار مصطفیٰ قریشی نے کہا کہ سلطان راہی ایکشن اور ایکسپریشن(تاثرات) کے بادشاہ تھے۔انہوں نے کہا کہ سلطان راہی نہ صرف بہترین اداکار تھے بلکہ وہ ایک بہت اچھے انسان بھی تھے ،اداکار مصطفیٰ قریشی نے سلطان راہی کی برسی کے موقع پر ایک بات چیت کے دوران انکشاف کیا کہ سلطان راہی نے معاشی طور پر کمزور ہدایت کاروں کے لیے مفت کام کیا، انہوںنے کہا کہ انہوں نے سلطان راہی کے ساتھ بہت کام کیا اور کبھی ان کی وجہ سے انہیں کوئی مشکل نہیں ہوئی، سلطان راہی نے اپنے فلمی سفر کا آغاز 50 کی دہائی میں کیا، لگ بھگ 15 سال بطور ایکسٹرا کام کرنے کے بعد انہیں بطور ہیرو پہلی کامیابی 1972ء میں فلم بشیرا کی صورت میں ملی،1975ء میں وحشی جٹ اور پھر 1979ء میں فلم مولا جٹ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

80کی دہائی میں سلطان راہی کی شہرت کا عالم یہ تھا کہ 2 اگست 1981ء کو ان کی تین سپر ہٹ فلمیں شیر خان، سالا صاحب اور چن وریام ایک ساتھ نمائشکے لیے پیش کی گئیں،سلطان راہی نے 800 سے زائد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، ان کی 28 فلمیں ڈائمنڈ جوبلی، 54 پلاٹینئم جوبلی اور 156 سلور جوبلی قرار پائیں،انہیں 160 ایوارڈز سے نوازا گیا،وہ9 جنوری1996ء گولی لگنے کے باعث اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
خبر کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ شوبز کا مرکزی صفحہ