حمزہ اکرم قوال اور برادران کو گورنر میری لینڈ نے خدمات پر اعلیٰ اعزاز سے نوازا


لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 نومبر2019ء) پاکستان کے معروف قوال خواں حمزہ قوال ،برادران تیمور اکرم اور عبد الکرم کو ان کی خدمات کے اعتراف میں گورنر میری لینڈ نے اعلیٰ اعزازی و تعریفی اسناد پیش کیں۔ ایوارڈ یافتہ برادران جوڑا امریکہ کے چھٹے دورے کیلئے یکجا ہے جو امریکہ کے بڑے شہروں میں ’صوفی قوالی یو ایس ٹوئر‘پر ہیں۔ امریکی دورے میں وہ تمام اہم مقامات پر پرفارم کر رہے ہیں بین الاقوامی شائقین کے سامنے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے پر زور پرفارمنس سے شائقین سے خوب داد وصول کر رہے ہیں۔

میری لینڈ کے گورنر کی جانب سے تعریفی اسناد ان کے فن ،ملک کیلئے کامیابی اور سراہنے والے مداحوں میں قبل قدر اضافہ ہے۔ یہ گروپ یکم دسمبر سے 8دسمبر تک آئندہ ٹوئر کیلئے دبئی میں پرفارم کرنے کیلئے تیار ہے۔ 30-11-19/--88 #h# ۳مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والا پاکستان میگا فیشن فلم اینڈ آرٹ ایوارڈ شوبدنظمی کا شکار،بری طرح فلاپ ہوگیا ،سیکیورٹی کے نام پر کھڑے کیئے گئے نوجوانوں کی صحافیوں اور فنکاروں سے بدتمیزی،متعدد فنکار پرفارم کیئے بغیر واپس لوٹ گئے۔

اویس ملک اپنے پھنسائے ہوئے سپانسرز کو عوام کا جم غفیر دکھا کر پیسے بٹورتا ہے اسے شوکی کامیابی اور ناکامی کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔شوبزحلقے #/h# لاہور (آن لائن)مقامی ہوٹل میں منعقد کیا جانیوالا پاکستان میگا فیشن فلم اینڈ آرٹ ایوارڈ شوبدنظمی کا شکار ہوکربری طرح فلاپ ہوگیا،سیکیورٹی کے نام پر کھڑے کیئے گئے نوجوانوں کی صحافیوں اور فنکاروں سے بدتمیزی،متعدد فنکار پرفارم کیئے بغیر واپس لوٹ گئے،آن لائن کے مطابق ایونٹ آرگنائزر اویس ملک کی جانب سے مقامی ہوٹل میں پاکستان میگا فیشن فلم اینڈ آرٹ ایوارڈ شو منعقدکیا گیا جس میں مختلف گلوکاروں اور فنکاروں نے پرفارم کرنا تھااویس ملک اور اسرارحسین کی جانب سے گیٹوں پر تعینات کیئے گئے لڑکوں نے صحافیوں اور فنکاروں کو بغیر دعوت نامہ اندر نہیں جانے دیا صحافیوں اور فنکاروں کی طرف سے جب تعارف کرویا گیا تو ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں اویس ملک نے کہاہواہے کہ بغیر دعوت نامے کے کسی کو اندر نہیں آنے دینا چاہے کوئی بھی ہو ان کے اس رویہ سے دلبرداشتہ ہوکر متعدد فنکار اور صحافی واپس لوٹ گئے جبکہ ہال میں فیملیز کی بجائے من چلوں کا قبضہ تھا جو فیملیز پر پھبتیاں کس رہے تھے جس سے لڑائیاں ہورہی تھیں متعدد فیملیز بھی اس رویہ کی وجہ سے واپس لوٹ گئیں۔

بیک سٹیج گیٹ پر تعینات لڑکے صحافیوں کو داخل ہونے سے روک کراپنے جاننے والوں کو جانے دے رہے تھے جن کی وجہ سے بیک سٹیج موجود ماڈلز اور فنکار بھی ڈسٹرب ہوتے رہے۔ریمپ واک کے لیئے غیرمعروف ماڈلز نے انٹری کی جس پر انہیں خوب ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑا۔صحافیوں اور فنکاروں کا کہنا تھا کہ آئندہ وہ اویس ملک کے کسی پروگرام میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ اویس ملک کو چاہیئے تھا کہ گیٹ پر تہذیب یافتہ عملہ کھڑا کرتا جس کے پاس صحافیوں اور فنکاروں کے ناموں کی لسٹ ہوتی اور انہیں خفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

شوبزحلقوں کا کہنا تھاکہ انتظامیہ کو بھی اس طرح کے شوزکی روک تھام کرنی چاہیئے کیونکہ ان شوزکی وجہ سے فحاشی کو فروغ دیا جارہاہے اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ماڈلنگ کے نام پر اپنی من مانی شرائط پر ریمپ واک کروائی جاتی ہے۔ ان حلقوں کا کہنا تھا کہ اویس ملک اپنے پھنسائے ہوئے سپانسرز کو عوام کا جم غفیر دکھا کر پیسے بٹورتا ہے اسے شوکی کامیابی اور ناکامی کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔اس کے ساتھ ساتھ ماڈل لڑکیوں کو اپنے مذموم مقاصد میں بھی استعمال کرتا ہے جس پر متعددماڈلز علم بغاوت کھڑا کرچکی ہیں ان ماڈلز کا کہنا ہے کہ اویس ملک ہماری مجبوری اور شوق کا ناجائز فائدہ اٹھاتاہے ۔
خبر کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ شوبز کا مرکزی صفحہ