اداکار شفیع محمدکو مداحوں سے بچھڑے 12برس بیت گئے
شفیع محمد کے انتقال کے دوسال بعد انھیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا


کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2019ء) سنجیدہ اور رعب دار کرداروں کے لیے مشہور ملنسار، ہنس مکھ شخصیت کے مالک اداکار شفیع محمدکو مداحوں سے بچھڑے 12برس بیت گئے ۔آواز اور چہرے کے تاثرات پر بھرپور عبور اور اداکاری کے تمام رموز سے مکمل واقفیت رکھنے والے معروف اداکار شفیع محمد کا تعلق اندورن سندھ کے گاؤں کنڈیارو سے تھا۔ شفیع محمد نے حیدرآباد ریڈیو سے صداکاری کے ذریعے فنی سفر کی شروعات کیں۔

سنجیدہ دکھائی دینے والے شفیع محمد ساتھی فنکاروں میں ایک ملنسار اور ہنس مکھ شخصیت کے طور پر مشہور تھے انہوں نے ٹیلی وژن اسکرین پر کیرئیر کا آغاز پروڈیوسر شہزاد خلیل کی ڈرامہ سیریل ’اڑتا آسمان‘ سے کیا مگر اصل شہرت ڈرامہ سیریل ’دیواریں، جنگل، آنچ، ماروی، چاند گرہن اور تیسرا کنارہ‘ سے ملی۔فلمی کیرئیر کے دوران شفیع محمد نے فلم ’ایسا بھی ہوتا ہے، تلاش، الزام، مسکراہٹ، روبی‘ میں بھی کام کیا۔

شہزاد رفیق کی فلم سلاخیں ان کے فنی کیریئر کی آخری فلم ثابت ہوئی۔ شفیع محمد کی صلاحیتوں کے اعتراف میں انھیں 1991ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔جگر کے عارضے میں مبتلا شفیع محمد پر 17 نومبر 2007ء کو گھر میں ہونے والی تقریب کے دوران درد کا شدید دورہ پڑا جو ان کے لیے جان لیو اثابت ہوا۔ شفیع محمد کے انتقال کے دوسال بعد انھیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
خبر کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ شوبز کا مرکزی صفحہ