میرے والد نے مجھے زندگی میں کبھی بھی گلوکار تسلیم نہیں کیا ‘عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی
گائیکی کی دنیا میں اپنا مقام بنانے کیلئے بڑی محنت کی ہے آج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں میرا نام ہے


لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اکتوبر2019ء) معروف گلوکار عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے کہاکہ جب میں نے گائیکی کا آغاز کیا تو میر ی سب سے بڑی خواہش تھی کہ میرے پاس میرا اپنا ہار مونییم ہو ، تو اس وقت میرے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے اس وقت میری والدہ نے مجھے سپورٹ کیا اور آج میں جس مقام پر ہوں اس میں میری والدہ کا سب سے بڑا رول ہے ۔ایک انٹرویو کے دوران انہوںنے کہاکہ میرے والد سخت گیر تھے اور روایتی پٹھا ن تھے اورانہوںنے مجھے کبھی بھی گلوکار تسلیم نہیں کیا جس کا مجھے بہت دکھ ہوا کرتا تھا ۔

انہوںنے کہاکہ میری والدہ مجھے کہا کرتی تھیں کہ تم دل چھوٹا نہ کرو تمہارے والد تمہار گانا چھپ چھپ کر سنتے ہیں مگر تمہارے سامنے اس کا اظہار نہیں کرتے کہ وہ تمہاری گائیکی سے متاثر ہیں انہوںنے کہاکہ وہ روایتی پٹھان تھے اورانہوںنے اپنے خاندان کی روایتوں کا نبھا یا اور اسی وجہ سے مجھے ان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔انہوںنے کہاکہ گائیکی کی دنیا میں اپنا مقام اور پہچان بنانے کے لئے میں نے بڑی محنت کی ہے اورا س کے پیچھے ایک طویل جدوجہد شامل ہے کہ میں نے چھوٹے کام اور ملازمتیں کیں اور پھر خدا کی ذات نے مجھے عزت اورشہرت سے نوزا اور میں اسکا کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں میرا نام ہے اوریہ صرف پاکستان کی بدولت ہے ۔
خبر کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ شوبز کا مرکزی صفحہ