ہاروی وائنسٹن کیخلاف ایک بار پھر خواتین کی جانب سے الزامات کا سلسلہ شروع
وہ اس وقت ضمانت پر رہا ہیں اور انہیں سزائیں سنائے جانے کے ٹرائل کا آغاز آئندہ برس جنوری سے ہوگا
فلم پروڈیوسر پر 100 خواتین و اداکارائیں الزام لگا چکی ہیں‘ہاروی کہتے تھے مجھے چینی لڑکیاں پسند ہیں‘خاون


نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 اکتوبر2019ء)دنیا میں ’می ٹو مہم‘ کا سبب بننے والے ہولی وڈ کے بدنام زمانہ پروڈیوسر 69 سالہ ہاروی وائنسٹن کے خلاف ایک بار پھر خواتین کی جانب سے نئے الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ہاروی وائنسٹن کے خلاف مزید اور نئی خواتین کی جانب سے الزامات لگائے جانے کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب کہ ان کی جانب سے جنسی ہراساں کی جانے والی خواتین کی جانب سے لائی گئی کہانیوں کو 2 سال مکمل ہوئے ہیں۔

ابتدائی طور پر ہاروی وائنسٹن پر 5 اکتوبر 2017 کو بیک وقت 22 خواتین نے کئی سال تک جنسی ہراساں کرنے اور ریپ کے الزامات لگائے تھے۔ہاروی وائنسٹن کے خلاف بعد ازاں دیگر خواتین بھی سامنے آئی تھیں اور اب تک ان پر 100 سے زائد خواتین جنسی ہراساں، جنسی استحصال، بلیک میلنگ اور ریپ کے الزاماگ لگا چکی ہیں۔ہاروی وائنسٹن پر امریکا کی مختلف عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں اور ان پر جنسی جرائم کے تحت 2 بار فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔

وہ اس وقت ضمانت پر رہا ہیں اور انہیں سزائیں سنائے جانے کے ٹرائل کا آغاز آئندہ برس جنوری سے ہوگا۔ہاروی وائنسٹن کے واقعے کے بعد ہی دنیا میں ’می ٹو مہم‘ کا آغاز ہوا تھا۔اس مہم کے 2 سال مکمل ہونے کے بعد اب مزید خواتین ہاروی وائنسٹن کے خلاف سامنے آئی ہیں اور انہوں نے فلم پروڈیوسر پر شدید الزامات عائد کیے ہیں۔ایک خاتون کے مطابق ہاروی وائنسٹن نے کہا انہیں چینی لڑکیاں بہت پسند ہیں-ہاروی وائنسٹن کے خلاف الزامات لگانے والی نئی خواتین میں ان کی سابق اسسٹنٹ چینی نژاد برطانوی خاتون رووینا چو بھی شامل ہیں، جنہوں نے امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ میں ایک تفصیلی کالم لکھا اور کالم سے قبل ایک کتاب میں فلم پروڈیوسر کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔

چینی نژاد برطانوی خاتون رووینا چو نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہاروی وائنسٹن کی جانب سے جنسی استحصال اور ہراساں کیے جانے کے بعد کم سے کم 2 بار خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی۔رووینا چو نے دعویٰ کیا کہ ہاروی وائنسٹن نے 21 برس قبل ان کا ’ریپ‘ کرنے کی کوشش کی۔خاتون کے مطابق وہ متوسط خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور انہیں برطانیہ میں بہتر زندگی گزارنے کے لیے نوکری کی ضرورت تھی اور ان کی خواہش تھی کہ وہ ہولی وڈ میں اچھی ملازمت پر کام کریں۔
خبر کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ شوبز کا مرکزی صفحہ