برصغیر کی معروف گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کی 93ویں سالگرہ منائی گئی
ملکہ ترنم نور جہاںنے مجموعی طور پر10ہزار سے زیادہ غزلیں اور گیت گائے


لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر2019ء)فن گائیکی کا سرمایہ، مدھر اورسریلی آواز کی مالک برصغیر کی معروف گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کی 93ویں سالگرہ منائی گئی ۔ملکہ ترنم نور جہاں 21ستمبر1926ء کوقصورمیں پیدا ہوئیں۔نور جہاں کا اصل نام اللہ وسائی تھا، اپنے فن اورمحبت کی بنا ء پر لوگوں نے انہیں ملکہ ترنم کا خطاب دیا۔ نورجہاں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز 1935ء میں بطورچائلڈ اسٹارفلم ’’پنڈ دی کڑیاں ‘‘سے کیا جس کے بعد ’’انمول گھڑی‘‘،’’ہیرسیال ‘‘اور ’’سسی پنو ‘‘جیسی مشہور فلموں میں اداکاری کے جوہر آزمائے۔

1941ء میں موسیقار غلام حیدر نے انہیں اپنی فلم ’’خزانچی ‘‘میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا۔ 1941ء میں ہی بمبئی میں بننے والی فلم ’’خاندان ‘‘ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اسی فلم کی تیاری کے دوران ہدایتکار شوکت حسین رضوی سے ان کی محبت پروان چڑھی اور دونوں نے شادی کرلی۔قیام پاکستان سے پہلے ان کی دیگر معروف فلموں میں،’’دوست‘‘،’’ لال حویلی‘‘،’’ بڑی ماں‘‘،’’ نادان‘‘،’’ نوکر‘‘،’’ زینت‘‘،’’ انمول گھڑی‘‘ اور ’’جگنو ‘‘کے نام سرفہرست ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد انہوں نے فلم ’’چن وے ‘‘سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کی ہدایات بھی انہی نے دی تھی۔ بطور اداکارہ ان کی دیگر فلموں میں گلنار، دوپٹہ، پاٹے خان، لخت جگر، انتظار،نیند، کوئل، چھومنتر، انار کلی اور مرزا غالب کے نام شامل ہیں۔اس کے بعد انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو گلوکاری تک محدود کرلیا۔

ایک ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 995 فلموں کے لئے نغمات ریکارڈ کروائے جن میں آخری فلم ’’گھبرو پنجاب دا ‘‘ تھی جو 2000میں ریلیز ہوئی تھی۔ملکہ ترنم نور جہاںنے مجموعی طور پر10ہزار سے زیادہ غزلیں اور گیت گائے ،میڈم نورجہاں الفاظ کی ادائیگی اور سر کے اتار چڑھا ئومیں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں،یہی وجہ تھی کہ بھارت کی مشہور گلوکاروں نے بھی ان کے فن کو خوب سراہا، گلیمر کی دنیا سے لے کر جنگ کے محاذ تک ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنی آواز کے سحر سے سب کو اپنی آواز کے سحر میں جکڑے رکھا۔

انہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران قومی نغمے بھی گائے جو ہماری قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔حکومت پاکستان نے انکی خدمات کو سراہتے ہوئے صدارتی تمغہ برائے حسن کارگردگی اور نشان امتیاز سے نوازا۔ملکہ ترنم نور جہاں 23دسمبر 2000 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔
خبر کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ شوبز کا مرکزی صفحہ