فلم ’جینیفرز باڈی‘ میں عریاں کردار ادا کرنے سے شدید نفسیائی مسائل سے دوچار ہوئی،میگن فاکس
ایسا محسوس ہوتا تھا اگر گھر سے باہر گئی اور لوگوں نے مجھے دیکھا تو شدید تنقید کریں گے،فلم کے بعد تمام پروڈیوسرز نے مجھے صرف فحش کرداروں کی پیش کش کی جو میرے لئے مزید ذہنی اذیت کا باعث بنے، اداکارہ کی گفتگو


نیو یارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر2019ء)ہالی ووڈ سائنس فکشن فلم ’ٹرانسفارمر‘ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ 33 سالہ میگن فاکس نے اعتراف کیا ہے کہ عریاں کردار ادا کرنے کی وجہ سے وہ شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار ہوئیں۔میگن فاکس نے 2001 میں فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا، انہیں اپنی تیسری فلم ’کنفیشنز آف ٹین ایج ڈرامہ کوئین‘ سے شہرت ملی، تاہم وہ 2007 میں ریلیز ہونیوالی اپنی چوتھی فلم ’ٹرانسفارمرز‘ سے فلم سازوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

2009ء میں ریلیز ہونیوالی ان کی ہارر کامیڈی فلم ’جینیفرز باڈی‘ میں بولڈ کردار انہیں شہرت کی نئی بلندیوں پر لے گیا۔فلم کی ریلیز کو ایک دہائی مکمل ہونے پر شوبز ویب سائٹ ’ای آن لائن‘ کے سامنے اداکارہ میگن فاکس نے اعتراف کیا کہ اس فلم میں عریاں کردار ادا کرنے کی وجہ سے وہ شدید نفسیائی مسائل سے دوچار ہوئیں۔اس فلم میں انہوں نے ایک ایسی نوجوان لڑکی کا کردار ادا کیا تھا جو ایک واقعے کے بعد نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتی ہے اور وہ کئی افراد سے جنسی تعلقات استوار کرنے کے بہانے قریب آ کر انہیں نقصان پہنچاتی ہیں اور کچھ افراد کو قتل بھی کردیتی ہیں۔

فلم میں اپنے کردار سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ایسے کردار کو نبھانے کے بعد شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئیں اور انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر وہ گھر سے باہر گئیں اور لوگوں نے انہیں دیکھا تو وہ ان پر شدید تنقید کریں گے۔میگن فاکس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ’جینیفرز باڈی‘ کے بعد تمام فلم پروڈیوسرز نے انہیں صرف عریاں اور فحش کرداروں کی پیش کش کی اور ایسے کردار ان کیلئے مزید ذہنی اذیت کا باعث بنے۔

اداکارہ کے مطابق وہ ایک دہائی قبل فلم میں عریاں کردار ادا کرنے کے بعد پہنچنے والی ذہنی اذیت کو بیان نہیں کرسکتیں۔انہوں نے کہا کہمجھے کافی عرصے تک ایسا محسوس ہوتا رہا کہ میرا جنسی استحصال کیا جا رہا ہے اور انہیں جان بوجھ کر فحش کردار دیئے جا رہے ہیں۔
خبر کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ شوبز کا مرکزی صفحہ