پاکستانی نژاد بیلجیئن خاتون کی فلم آسکر ایوارڈ کیلئے نامزد
پاکستانی نژاد نارویجین فلم ساز ارم حق کی فلم کو 91 ویں اکیڈمی ایوارڈز کیلئے غیرملکی زبان کی فلم کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا


نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 دسمبر2018ء)شرمین عبید چنائے کے بعد ایک اور پاکستانی خاتون کی فلم آسکر ایوارڈ کیلئے نامزد ہوگئی۔ پاکستانی نژاد نارویجین فلم ساز ارم حق کی فلم سسWhat will people sayژژکو 91 ویں اکیڈمی ایوارڈز کیلئے غیرملکی زبان کی فلم کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا ۔فلم کے نام کا اردو ترجمہ ہوگا لوگ کیا کہیں گی جس میں16 سالہ نِشا کا مرکزی کردار ماریہ موڑدا نے ادا کیا ہے۔

اس لڑکی کو ناروے میں رہتے ہوئے ثقافتی تصادم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور والدین کے دباؤ پراسے اپنا گھر چھوڑ کر پاکستان میں خاندان والوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اسے اپنا کلچر اپنانے کو کہا جاتا ہے۔فلم میں بھارتی اداکاروں عادل حسین اور شیبا چڈھا کے علاوہ روہیت صراف اور اکاولی کھنہ نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ارم حق کے مطابق یہ فلم ان کی اپنی کہانی ہے۔ ان کے والدین پاکستان سے ہیں ،ْ جنہوں نے انہیں اغواء کرکے پاکستان میں ایک سال تک رہنے پر مجبور کیا۔فلم کی اسکریننگ کا اہتمام ممبئی میں رائل نارویجیئن قونصلیٹ نے کیا تھا۔
خبر کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ شوبز کا مرکزی صفحہ