بھارتی گلوکار سونو نگم کا پاکستانی ہونے سے متعلق بیان اور سوشل میڈیا پر تنقید
سونو نگم نے سیاق و سباق سے ہٹ کربیان شائع کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا


ممبئی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 دسمبر 2018ء): بھارت کے معروف گلوکار سونو نگم نے حال ہی میں دئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر میں بھارتی شہری ہونے کی بجائے پاکستانی شہری اور گلوکار ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔ اس بیان پر سونو نگم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا جس پر اب انہوں نے خود ہی وضاحت دینے کا فیصلہ کر لیا اور سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان شائع کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر اپنے پیغام میں بھارتی گلوکار سونو نگم نے کہا کہ کبھی کبھار ہیڈ لائنز بنانے کے لیے کچھ صحافی بیانات کا سیاق و سباق ہٹا کر بیانات شائع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاکستانی ہونے کے بیان کے پیچھے کی وجہ یہ تھی کہ بھارتی حکومت بھارتی گلوکاروں سے کانسرٹ کے معاوضے کا چالیس سے پینتالیس فیصد ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور صرف اسی شرط پر اُن کے ساتھ کام کیا جاتا ہے۔

لیکن بھارتی حکومت اپنی یہ شرط غیر ملکی گلوکاروں پر عائد نہیں کرتی ، اسی لیے میں نے پاکستان کا نام لیا اور کہا کہ اس سے اچھا ہوتا کہ میں پاکستانی گلوکار ہوتا۔ میں نے اپنے بیان میں ایک اہم نقطہ اُٹھایا لیکن ان صحافیوں نے اسے تبدیل کر کے شائع کیا کہ اچھا ہوتا اگر میں پاکستان میں پیدا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی اس حرکت پر میری سمجھ سے باہر ہے کہ میں کیا کہوں ، یہ نہایت افسوسناک ہے۔



 انٹرویو کے دوران انہوں نے گانوں کے ری مکس بنانے پر بھی بات کی تھی اور مذاقاً کہا تھا کہ اس سے اچھا ہوتا کہ میں پاکستانی ہوتا ، کم از کم مجھے بھارت سے گانا گانے کی آفرز تو ہوتیں۔ لیکن صحافیوں نے ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جس پر تنقید بڑھنے پر سونو نگم کو خود اپنی وضاحت پیش کرنا پڑی۔
خبر کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ شوبز کا مرکزی صفحہ