اُردو پوائنٹ پکوان

مقبُوضہ وادی میں سردیوں کے پکوان


 جی این بھٹ
شدید سردیوں سے قبل کشمیر میں یہ موسم ”ہرد“کہلاتا ہے جسے ہم خزاں کہتے ہیں ۔اس موسم میں درختوں سے پتے جھڑ تے ہیں ۔سر سبز کشمیر کی جگہ ا یک نیاست رنگ قوس دقزح کے رنگوں جیسا منظر ہر طرف خشک پتوں والے درختوں پر نظر آتا ہے ۔خزاں کی یہ رنگا رنگی شاید ہی کسی اور خطے میں نظر آتی ہو جو کشمیر میں نظر آتی ہے ۔
شہتوت ،سفیدے ،پیپل ،مولسری ،اخروٹ ،سیب ،خوبانی ،چیڑ ،دیودار اور چنار سمیت مختلف اقسام کے درختوں کے پتے اس موسم میں زرد،سرخ ،سنہری ،نارنجی اور پیلے رنگ میں رنگ جاتے ہیں تو سر سبز گھاس سے بھری زمین بھی خشک ہو کر براؤن رنگ اختیار کرلیتی ہے ۔لگتا ہے سبزے کے قالین کی جگہ زرد قالین بچھردی گئی ہے ۔
اس موسم میں رات سرد ہونے لگتی ہے دن کو ٹھنڈک کا احساس بڑھ جاتا ہے ۔دھوپ میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے ۔نومبر کے آغاز کے ساتھ ہی خزاں سرد موسم میں بدل جاتی ہے ۔”ہرد “کا موسم ”وند “یعنی سردی میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔پوری وادی ٹُنڈ مُنڈ درختوں کی وجہ سے حسرت ویاس کی تصویر نظر آتی ہے ۔ایک غیر محسوس یاسیت کا منظر سامنے رہتا ہے تو طبیعت بھی مضحمل محسوس ہوتی ہے ۔ایسے خاموشی کے مارے موسم میں جب پرندے بھی چہچہانا کم کر دیتے ہیں ۔
جانور تک گرم علاقوں کی طرف پہاڑی خانہ بدوش قبائل کی طرح ہجرت کرتے ہیں تو وادی میں مکانات کی چمنیوں سے نکلنے والے دھویں کی لکیریں اس ہجرت اور یا سیت کے احساس کو مزید گہرا کر دیتی ہیں ۔
اس موسم میں کشمیریوں کی سب سے بڑی رفیق ان کی کانگڑی اور سردیوں کا مخصوص لباس ”فرن “ہوتا ہے جب سبزہ ناپید ہوتو کشمیر کی رنگ برنگی متعدد اقسام کی سبزیاں بھی پالے ،برف اور یخ بستہ سرد ہواؤں کی وجہ سے ناپید ہوجاتی ہیں بہت کم اقسام کی سبزیاں اس موسم کی شدت کا مقابلہ کرتی ہیں ۔
سو اس سرد موسم میں اپنی من پسند سبزیوں کے حصول کیلئے کشمیری اپنے روایتی طریقے کو بروئے کار لاتے ہیں اور شدید سردی میں بھی اپنی من پسند سبزیاں استعمال کرتے ہیں ۔کشمیری موسم گرما میں موسمی سبزیوں کو دھوپ میں خشک کرلیتے ہیں ان میں بینگن ،کدو،گھیا،کریلے ،ٹماٹر ،مرچیں ،ساگ ،وغیرہ شامل ہیں ۔
سردیوں میں ان خشک سبزیوں کو روایتی طریقوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ کشمیری نہایت مہارت سے گوشت اور مچھلی بھی خشک کرتے ہیں جو اس سرد موسم میں بڑی رغبت اور شوق سے کھا ئے جاتے ہیں ۔یہ خشک سبزیاں عالم طور پر خالی یعنی سادہ بنا گوشت کے بھی بنتی ہیں انہیں گوشت کے ساتھ ،مچھلی کے ساتھ یا دالوں کے ساتھ بھی بنایاجاتا ہے ۔
کشمیری ثابت مونگ کی دال اور سُرخ لوبیا یعنی راجما نہایت رغبت سے کھاتے ہیں ۔خشک بینگن جو کاٹ کر سکھائے ہوتے ہیں وہ مونگ کی دال میں پکائے جاتے ہیں ان کا ذائقہ علیحدہ مزہ رکھتا ہے اس طرح خشک گھیا اور کدو گوشت کے ساتھ یا خالی پکایاجاتا ہے ۔اس کا مزہ بھی دونوں طریقے سے آتا ہے ۔اسی طرح خشک ٹماٹر اور پیاز تیز مرچ مصالحے کے ساتھ اپناا لگ مزہ رکھتے ہیں ۔
اس موسم میں جسمانی نظام کو گرم اور تیز رکھنے کیلئے مچھلی تازہ اور خشک کی گئی دونوں زیادہ استعمال ہوتی ہیں ۔مچھلی کو کشمیری بے شمار طریقوں سے ندرو (کنول نیلو فر کے ڈنڈوں )سفید مولی اور کشمیری ساگ کے ساتھ بھی پکاتے ہیں اور خالی تازہ یا خشک مچھلی بھی پکاکر کھاتے ہیں ۔ان میں بڑی مچھلی کے علاوہ چھوٹی مچھلیاں بھی پکائی جاتی ہیں ۔ان کو بھون کر پا چٹنی بنا کر بھی کھایا جاتا ہے ۔دریاؤں ،چشموں ،جھیلوں اور ندی نالوں کی بہتات کی وجہ سے کشمیری سردیو ں میں مچھلی کا استعمال گوشت کی طرح زیادہ کرتے ہیں ۔
اس کے علاوہ ایک مخصوص ڈش تازہ کدو کو دہی میں ملا کر پکایا جاتا ہے اس کا مخصوص نام ”دو د آل “ہے ۔
یہ بطور سالن بھی کھایا جاتا ہے اور بطور رائتہ بھی استعمال ہوتا ہے۔
اس موسم میں جسم کوگر م رکھنا چونکہ ضروری ہوتا ہے اس لئے ”کشمیری ”ہند “کو سکھا لیتے ہیں یہ نہایت گرم تاثیر والی سبزی ہے اسے پنجاب میں ”کاہو “یا ”کاسنی “بھی کہاجاتا ہے ۔یہ تنہائی پکائی ہوتب بھی قیامت کا مزہ دیتی ہے ۔گوشت کے ساتھ اس کا مزہ اور بھی دوبالا ہوجاتا ہے ۔سری پائے کا استعمال خاص طور پر کشمیری سردیوں میں کرتے ہیں ۔
موسم گرما میں بہت کم سری پائے کھائے جاتے ہیں ۔دیہی علاقوں میں افغانستان ،تاجکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کی طرح کشمیر میں گائے اور بیل کے پائے اور گوشت کا استعمال عام ہے جسے کھا کر یہ لوگ سردیوں کا مقابلہ کرتے ہیں بغور دیکھا جائے تو کشمیری سالن میں خواہ سبزی ہویا نہ ہو گوشت لازمی عنصر ہے ۔اس لئے کشمیری گوشت کو دودھ ،دہی ،سبزی کے ساتھ پکاتے ہیں کچھ نہ ملے تو تل کر بھون کر استعمال کرتے ہیں ۔
افغانیوں ،تاجکوں اور ازبکوں کی طرح کشمیری بھی بھیڑ کا دنبے کا چربی والا گوشت شاید انہی سردیوں کی وجہ سے بہت پسند کرتے ہیں ۔پلاؤ بھی سردیوں میں استعمال ہوتا ہے یہ بھی افغانستان ،تاجکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کی طرح دنبے کے گوشت میں چاولوں کے ساتھ بادام ،اخروٹ ،کاجو، کشمش اور مالٹے کے باریک چھلکے کے ساتھ پکایا جاتا ہے ۔
ان سب کے علاوہ اگر ”ہریسہ “کا ذکر نہ ہوتو مضمون ادھوار رہتا ہے ۔ہریسہ کشمیریوں کی من پسند غذاؤں میں شامل ہے۔یہ گرما گرم کھایا جاتا ہے مقوی ہونے کی وجہ سے خود اپنی طرح گرم تاثیر بھی رکھتا ہے ۔اس کے ہمراہ بھی دنبے کے گوشت کے کباب استعمال ہوتے ہیں ۔سردیوں کی وجہ سے کشمیر میں بکرے کی بجائے بھیڑ یا دنبے کا گوشت کثرت سے استعمال ہوتا ہے ۔مرغ بیمار لوگ استعمال کرتے ہیں مگر اب جب سے فاسٹ فوڈ کا رواج عام ہوا ہے مرغ کی قسمت بھی کھل گئی ہے ۔گوشت کے تکوں کے ساتھ ساتھ مرغ تکہ بھی اور روسٹ بھی عام ہورہا ہے ۔
ا س کے علاوہ ”ندور“(نیلو فرکنول کے ڈنڈے)کے پکوڑے اور پنیر کے پکوڑوں کی بھی سردیوں میں مانگ بڑھ جاتی ہے ۔عام ہوٹلوں میں یہ چائے خاص طور پر میٹھی چائے کے ساتھ زیادہ استعمال ہوتے ہیں ۔یہ سب اپنی جگہ جو مزہ کشمیری گلابی چائے کا ساری سردیوں میں آتا ہے وہ اپنی جگہ ہے اور جب اس چائے میں مکئی کا ستوڈال کر یا مکئی کی گرما گرم روٹی مکھن لگا کر نوش جان کی جائے تو بدن میں خود بخود حرارت پیدا ہوتی ہے ۔
ستو کشمیری چائے کے ساتھ پینا بھی خالص کشمیری انداز ہے جس کا مزہ ہی کچھ اور ہے ہر گھر میں امیر ہو یا غریب سارا دن کشمیری چائے سے بھرا سما وار تیار رہتا ہے جو بھی آتا ہے وہ چائے کا پیالہ بھر کر چسکیں لے کر پیتا ہے ہاتھ میں گرما گرم چائے کا کپ ہوفرن پہنا ہو جس کے اندر گرما گرم سانگڑی گر مائش دے رہی ہوتو کمبل اوڑھ کر شدید سردی یعنی ”وند “کا مقابلہ بخوبی کیا جا سکتا ہے ورنہ جب ہر طرف فٹوں کے حساب سے برف جمی ہو دریا ندی نالے جھیلیں سردی سے جم جاتی ہوں پوری وادی فریز ربنی ہوتی ہے تو زندہ رہنے کیلئے یہ خوراک اور طرز خوردونوش بے حد ضروری ہوتا ہے ۔

ترکیب کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ پکوان کا مرکزی صفحہ