اُردو پوائنٹ پکوان

کھابے ہمارے اندر ہوتے ہیں


 غلام زہرا
خوراک انسان کا بنیادی حق ہے اور اچھا کھانا پینا انسان کی کمزوری ہوتی ہے ۔ابتدائی انسان سے لے کر بتدزیج زندگی کے ہر شعبہ میں بے انتہا ترقی ہوئی ہے ۔گھاس پھوس اور پتوں سے پیٹ بھرنے والا انسان انواع واقسام کی لذتوں سے آشنا ہوا ہے ۔دنیا بھر میں کوکنگ کے نت نئے تجربات کئے جارہے ہیں ۔پڑھے لکھے لوگ شیف بن کرلذت سے بھر پور پکوان بناتے ہیں ۔
اس میدان میں بہت سے لوگوں نے بھر پور ترقی کی ہے ۔وہاں خواتین اور لڑکیاں بھی پیچھے نہیں رہیں بلکہ کوکنگ کے نت نئے تجربات سے خواتین اپنا آپ منوا رہی ہیں ۔پاکستان میں بھی بہت سی لڑکیاں اور خواتین اس شعبہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں اور ملکی معیشت میں اضافہ کا باعث بن رہی ہیں۔
ایسا ہی ایک نام مہرین بٹ کا بھی ہے وہ کیک اور آئس کریم بنانے میں خاصی مہارت رکھتی ہیں ۔مہرین بٹ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔
انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے شماریات میں ماسٹر کر رکھا ہے وہ گولڈمیڈلسٹ ہیں ۔مہرین تین بہنیں اور ایک بھائی ہے ۔ان کے والد ایک کامیاب بزنس مین ہیں ۔مہرین Myne s cakery کے نام
سے آن لائن بزنس کرتی ہیں ۔وہ اہتمام اور شوق سے کیک آئس کریم اور سویٹس ڈشنر میں تجربات کرتی رہتی ہیں ۔متعدد انعامات ‘اسناد بھی حاصل کر چکی ہیں ۔
کلاسز سمیت ورکشاپ میں بھی مد عو ہوتی رہتی ہیں ۔مہرین بہت ہی میٹھے مزاج کی بھی ہیں
س:۔ سب سے پہلے تو یہ بتائیے کہ شیف کیسے بن گئیں؟
ج:۔ حادثاتی طور پر کہہ سکتی ہیں میری والدہ ‘خالد اور نانی بہت ہی اچھی کوکنگ کرتی ہیں ۔والدہ کو دیکھ کر مجھ میں بھی شوق پیدا ہوا اور میں نے بھی ا س طرف توجہ دینا شروع کردی ۔بچپن سے لے کرلڑکپن تک تو اندازہ نہیں تھا کہ میں پیشہ وارانہ طور پر یہ کام کروں گی۔(ہنستے ہوئے )میرا سبجیکٹ بھی میرے کام سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔
مگر یہ ضروری نہیں ہوتا ۔میرے خیال میں جو کام آپ شوق اور دلچسپی سے کر سکیں اسے ہی اپنا پیشہ بنائیں ۔جہاں تک پروفیشنل طور پر اپنانے کی بات ہے تو میرا مشغلہ تھا کہ جو چیز بناتی ۔فیس بُک پر اس کی پکچر لگادیتی اور لکھتی کہ آج میں نے یہ بنایا ہے ۔کمنٹس آتے جس سے میری خوب حوصلہ افزائی ہوئی ۔میرا شاید اتنا پلان نہ بنتا ۔کزنز اور دوستوں کے کہنے پر مجھے تقویت ملتی رہی اور باقاعدہ طور پر فروری 2016ء میں نے انٹر نیٹ کے ذریعے اپنے کام کا آغاز کیا۔
اولین میرا کام تجرے کے طور پر تھا۔کپ کیک تیار کئے ۔ہماری فوڈ انڈسٹری کی ڈویلپمنٹ میں سوشل میڈیا کا کردار بھی ہے ۔پکوان سے متعلق گروپ بنے ہوئے ہیں ۔کپ کیک کے بعد آئس کریم کا سوچا ۔میں نے 25فلیور اکٹھے کر کے متعارف کروائے۔تین ہفتے تجربہ کیا کہ رسپانس کیسا آتا ہے ۔خالص دودھ اور ڈیری اور امپورٹڈ اجزائے ترکیب کی وجہ سے بہت ہی اچھا رسپانس سانے آیا۔پہلے تین ہفتے میں آئس کریم کا آرڈر ٹرپل تھا۔کیک سے زیادہ لوگ آئس کریم والی بندی کے نام سے معروف ہو گئی ۔
فیملی:۔آرڈر کیسے لیتی ہیں ؟
ج :۔Myne s cakeryکے نام سے میرا پیج ہے اسی پر آرڈر لیتی ہوں کوئی بھی آرڈر سات دن پہلے لیا جاتا ہے ۔ویک اینڈ میں زیادہ آرڈر آتے ہیں اور ویک اینڈ میں اپنا کیک سلائز میں بنا کر گلبرگ میں موجود بیکرز میں رکھ دیتی ہوں ۔
س :۔مستقبل میں کیا ارادہ ہے؟
ج:۔کلاسز پرورک ،نئے فلیور لاؤنج کرنے کا ارادہ ہے ۔۔ہائی ٹی ڈیزائن کرنے کا بھی شوق ہے ۔ہر تین ماہ بعد تجربے کرتی رہتی ہوں ۔دراصل چھٹی والے دن بھی چھٹی نہیں ہوتی ۔
س :۔اپنے آپ کو کتنا وقت دیتی ہیں ؟
ج:۔(سوچتے ہوئے)اپنے آپ سے کمپرومائز ہی کرتی ہوں ۔مثلاً اگر میں نے صبح چھ کیک دینے ہیں تو اپنی خیر ہے پہلے دے دوں ۔
س:۔اب تک کتنے سٹال کر چکی ہیں ؟
ج:۔ ویلنشیا سمیت کئی علاقوں میں مختلف سٹالز کر چکی ہوں ۔زندگی میں کامیابی کے لئے شوق اور جذبہ ضروری ہے جو رزق اور پیسہ قسمت میں ہوگا وہ مل کے رہے گا۔

ترکیب کا مکمل متن پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے
اُردو پوائنٹ پکوان کا مرکزی صفحہ